راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر اور جامعۃ الرشاد کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا عامر رشادی مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور ان کے لیے مغفرت، رحمت اور بلندیِ درجات کی دعا کی۔
مولانا عامر رشادی مدنی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی رحلت ایک عہد کے خاتمے کے مترادف ہے۔ ان کی علمی و تدریسی خدمات، اخلاص، سادگی اور اہلِ علم سے گہری وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اپنی زندگی علمِ دین کی خدمت، تعلیم و تدریس اور نئی نسل کی علمی و فکری تربیت کے لیے وقف کردی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کو جامعۃ الرشاد اور اس کے ذمہ داران سے خصوصی شفقت و محبت تھی۔ جب بھی ملاقات ہوتی، وہ جامعۃ الرشاد کے حالات، تعلیمی سرگرمیوں اور ذمہ داران کی خیریت ضرور دریافت فرماتے اور ادارے کی علمی و دینی پیش رفت کے بارے میں محبت و دلچسپی سے گفتگو کرتے تھے۔ ان کی یہ محبت جامعۃ الرشاد کے لیے ہمیشہ ایک قیمتی یاد اور اعزاز رہے گی وہ ہمیشہ ہم لوگوں کی تحریکی سرگرمیوں کو سراہتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔
مولانا عامر رشادی مدنی نے مزید کہا کہ موت اہلِ ایمان کے لیے فنا نہیں، بلکہ اپنے ربِ حقیقی کی طرف واپسی کا سفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو علم و دین کی خدمت کے لیے جو زندگی عطا فرمائی، وہ ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور آخرت کا ذخیرہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، تلامذہ اور محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

